This is all in one Blog.

Showing posts with label Technology. Show all posts
Showing posts with label Technology. Show all posts

Saturday


In 1997, IBM rocked the technology industry when it announced chips with copper interconnects that could make microprocessors faster, smaller and less expensive than chips made with aluminum interconnects—the industry standard at the time. One Japanese newspaper headline on the announcement called it “The IBM Shock!” The San Jose Mercury News reported that IBM’s announcement “puts it as far as three years ahead of its competitors.”
Developed by a dedicated, cross-discipline US research and technology team from Yorktown Heights and East Fishkill, NY, and with members from the Burlington, Vermont microelectronics group, the work was performed in a low-profile manner and furthered through an alliance with Motorola, which was pursuing development of the same technology.
Many in the industry didn’t believe in copper’s promise. Yet the limitations of aluminum in microprocessors were obvious.





Monday






Title of Jobs
  • === Trades ===
  • Electrical Technician
  • Plant Operator
  • Fitter Mechanical
  • Welder
  • Turner

Tuesday




ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سمندر کی تہہ سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ نے گذشتہ برفانی دور کا خاتمہ کیا تھا۔
یونیورسٹی آف ساؤتھیمپٹن کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سمندر سے نکلنے والی اس کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے موسم گرم ہونا شروع ہو گیا۔
جریدے نیچر میں شائع ہونے والی یہ تحقیق قدیم پلانکٹن کے خول میں موجود کیمیائی سگنل کے تجزیے پر مبنی ہے۔
سمندر فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک تہائی حصہ جذب کر لیتے ہیں۔ سائنس دانوں نے پیش گوئی کی ہے جیسے جیسے یہ سمندر گرم ہوتے جائیں گے، ان کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جائے گی۔
اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر مِگیل مارٹینز بوٹی کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندر کے بعض حصوں میں حل شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آخری برفانی دور کے اختتام پر فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافے میں آپسی تعلق تھا۔
انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’اس تحقیق سے کاربن کی گردش میں سمندر کے کردار کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فضا کے مقابلے پر سمندر کاربن ذخیرہ کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے اس لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ سمندر فضا سے کس طرح تعامل کرتا ہے۔‘
یہ تحقیق سمندر کی سطح پر رہنے والے ہزاروں سال قدیم سمندری جانداروں کے تجزیے پر مبنی ہے۔
ان جانداروں کے خول میں موجود کیمیائی مادوں کے تجزیے سے سمندر کے پانی کی تیزابیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جس سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ پانی میں کتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ موجود رہی ہو گی۔
سائنس دان ڈاکٹر گیون فوسٹر نے کہا: ’جیسا کہ سمندروں نے انسان کی جانب سے گذشتہ سو سال میں فضا میں خارج کی جانے والی گیسوں کے 30 فیصد کے قریب حصہ جذب کیا ہے، ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویسے ہی برفانی ادوار سمندر میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح میں تبدیلیوں کی وجہ سے شروع ہوتے ہیں۔‘
مریکی اور چینی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان کو اس بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ زمین کے مرکز میں کیا واقع ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے سیارے کی اندرونی مرکزے میں ایک اور مرکزے ہے۔
سائنس دانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ لوہے کی قلمیں کی ساخت ان قلموں سے مختلف ہے جو اندرونی مرکز میں پائی جاتی ہیں۔
یہ تازہ تحقیق نیچر جیو سائنس جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
زمین کے مرکز میں ڈرلنگ کے بغیر اس کی بناوٹ معلوم کرنا آسان نہیں ہے۔ سائنس دانوں نے مرکزے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے زلزوں سے پیدا ہونے والی گونج کا سہارا لیا اور دیکھا کہ یہ گونج زمین کی مختلف تہوں سے گزرتے ہوئے کیسے تبدیل ہوتی ہے۔
الی نوئے یونیورسٹی کے پروفیسر زیاؤڈونگ سونگ کا کہنا ہے ’گونج زمین کی ایک طرف سے ٹکرا کر دوسری طرف جاتی ہیں۔‘

پروفیسر سونگ کا کہنا ہے کہ چین میں ان کی ٹیم کے ساتھیوں نے بتایا کہ اس معلومات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ زمین کا اندرونی مرکزہ، جو کہ چاند کے حجم کے برابر ہے، اس کے دو حصے ہیں۔
گونج سے معلوم ہوا ہے کہ ’اندرونی اندرونی مرکزے‘ کی قلموں کا رخ مشرق سے مغرب ہے۔ تاہم جو قلمیں ’بیرونی اندرونی مرکزے‘ میں ہیں ان کا رخ شمال سے جنوب کی جانب ہے۔
پروفیسر سونگ کا کہنا ہے کہ ’زمین کے اندرونی مرکزے کے مختلف حصوں کی مختلف بناوٹ سے ہمیں زمین کی طویل تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔‘
سائنس دانوں کے مطابق ایک ارب سال قبل مرکز کا وہ حصہ جو پانچ ہزار کلومیٹر زیر زمین ہے، ٹھوس ہونا شروع ہو گیا اور ہر سال 0.5 ملی میٹر سے بڑھ رہا ہے۔
تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ مرکز میں قلموں کے رخ مختلف ہونے کے باعث شواہد ملتے ہیں کہ قلمیں مختلف حالات میں بنیں اور زمین اس عرصے میں ڈرامائی تبدیلیوں سے گزری۔
کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر سائمن ریڈفرن نے تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’زمین کے ٹھوس اندرونی مرکزے کی جانچ کا مطلب ہے قیام کے وقت تک اس کی تاریخ جاننا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’اس سے قبل یہ کبھی نہیں معلوم کیا جا سکا کہ قلموں کا رخ مختلف ہے۔ اور اگر یہ درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کچھ نہایت ڈرامائی تبدیلی آئی جس کے باعث ایسا ہوا۔‘
انھوں نے کہا کہ دیگر تحقیق سے یہ معلوم ہے کہ زمین کے مقناطیسی میدان میں تبدیلی رونما ہوئی لیکن صرف 50 کروڑ سال قبل۔


ٹیکنالوجی کے اعلیٰ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس کا استعمال کرنے والے لوگوں کو کسی حد تک پرائیویسی کا سودا کرنا لازمی ہو گا۔
انجینیرنگ اور ٹیکنالوجی انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ویل سٹورٹ کہتے ہیں کہ پرائیویسی میں کمی کرنا سمارٹ فونز کی اندرونی خاصیت ہے۔
یہ بیان انھوں نے سیمسنگ کے ایک اعلان کے بعد دیا جس میں الیکٹرانک کمپنی نے صارفین کو ہوشیار کیا ہے کہ وہ آواز سے چلنے والے ٹی وی یا ’وائس اکٹویٹڈ‘ ٹی وی کے سامنےذاتی باتیں کرنے سے پرہیز کریں۔
سیمسنگ کے نئی نسل کے ’سمارٹ‘ ٹی وی سیٹ دیکھنے والے کی آواز کو پہچاننے اور ریکارڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے ذریعے احکام لے سکتے ہیں۔
تاہم سیم سنگ نے واضح کیا ہے کہ یہ سیٹ مسلسل ریکارڈ نہیں کرتے بلکہ ’ وائس اکٹویشن‘ کی سہولت صرف تب استعمال میں آتی ہے جب صارفین بٹن دبا کہ اس کے ریموٹ میں نصب مائیکروفون سے مخاطب ہوتے ہیں۔
سمارٹ ٹی وی پھر اس ریکارڈنگ کو انٹرنیٹ کے ذریعے وضاحت کے لیے بھیجتا ہے تاکہ یہ تعین کر سکے کہ حکم کیا ہے۔
سیم سنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ نہ ان معلومات کو اپنے پاس رکھتا ہے اور نہ ہی اسے بیچتا ہے مگر اس یقین دہانی کے باوجود پرائیویسی کے موضوع پر ایک بحث چھڑگئی ہے۔
پروفیسر سٹیورٹ کہتے ہیں کہ’ وائس اکٹویٹشن‘ کے نئے دور میں پرائیوسی کو بہت خطرات ہیں۔ انھوں نے کہا کے سیم سنگ کے سمارٹ ٹی وی سیٹ ابھی ابتدائی ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں لیکن ’جیسے جیسے ہمارے ٹی وی سیٹ اور عقلمند ہوتے جائیں گے ویسے ویسے مسائل اور پیدا ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ کیونکہ زیادہ تر لوگ اپنے فائدے کے لیے کچھ پرائیویسی کھونے کے لیے تیار ہیں ان کو یہ احساس نہیں ہے کہ پرائیویسی کا سودا ایک دلدل ہے جو آہستہ آہستہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

Monday

سیم سنگ نے گاہکوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سمارٹ ٹی وی سیٹ کے سامنے ذاتی معاملات پر بحث کر نے سے گریز کریں۔

یہ انتباہ ان ناظرین کے لیے ہے جو اپنے سیم سنگ ٹی وی کو آواز کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ایسے ٹی وی سیٹ اپنے سامنے ہونے والی تمام گفتگو کو سنتے ہیں اور وہ اس کی تفصیلات سیم سنگ یا دوسری کمپنیوں کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔

نجی معلومات کی حفاظتی مہم چلانے والے کارکنوں نے اس ٹیکنالوجی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے شہریوں کی جاسوسی کی جاسکتی ہے۔

یہ انتباہ ’ ڈیلی بیسٹ‘ نامی ایک آن لائن نیوز میگزین کے جانب سے سیم سنگ کے سمارٹ ٹی وی سیٹ کی رازداری کی پالیسی کے ایک حصے کا اقتباس شائع کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

پالیسی میں وضاحت کی گئی ہے کہ ٹی وی سیٹ کمرے میں موجود لوگوں کی باتیں سن اور ریکارڈ کر سکتے ہیں اور اگر آپ کی گفتگوں میں ذاتی معلومات کا تبادلہ کیاگیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ یہ تیسری پارٹی کو بھیجی جانے والی معلومات میں شامل ہوں۔

لوگوں کے ڈیجیٹل حقوق کے بارے میں شعور اجاگر کرنے والی تنظیم ’الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن‘ کی وکیل کورنی میکشیری کا کہنا ہے کہ ’اگر میں سیم سنگ کی گاہک ہوتی تو میں یقیناً یہ جاننا چاہتی کہ یہ تیسری پارٹی کون ہے اور میرے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔‘

دوسری جانب سیم سنگ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ کمپنی کے سمارٹ ٹی وی پر وائس ایکٹیویشن کیسے کام کرتی ہے۔

’اگر ایک صارف آواز کی شناخت کرنے والے فیچر کو رضامندی سے استعمال کرتا ہے تو پھر مطلوبہ مواد کو ڈھونڈنے کے لیے آواز کا ڈیٹاایک تیسری پارٹی کو بھیجا جاتا ہے جو اس مواد کو حاصل کر کے واپس بھیجتی ہے۔‘
سیم سنگ نے تیسری پارٹی کا نام نہیں بتایا۔

کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ آواز کی شناخت کرنے والے فیچر صرف صارف ہی آن کر سکتے ہیں اور نہ تو وہ آواز کا ڈیٹا اپنے پاس رکھتی ہے اور نہ ہی اسے کسی اور کو بیچتی ہے۔

Thursday


29-Jan-2015 (Thursday)  in  Jang 



Monday


25-Jan-2015 (Sunday)  in  Express 





Friday


15-Jan-2015 (Thursday)  in  Jang 

.

.